Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
622 - 975
حدیث نمبر 622
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہایت ہی سچی بات جو شاعر کہے وہ لبید کی بات ہے ۱؎ کہ یقینًا اللہ کے سواء ہر چیز فانی ہے ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہاں کلمہ سے مراد شعر ہے،لبید ابن ربیعہ عامری عرب کے مشہور شاعر ہیں،یہ اپنی قوم بنی جعفر ابن کلاب کے وفد میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے،حضور کے بعد کوفہ میں رہے   ۴۱ھ؁ اکتالیس ہجری میں وفات پائی ایک سو چالیس یا ایک سو پچھتر سال عمر ہوئی،کوفہ میں ہی مزار ہے،اسلام لاکر کوئی شعر نہ کہا،فرماتے تھے کہ اب مجھے قرآن کریم کی فصاحت کافی ہے یہ وہ خوش نصیب صحابی ہیں جن کے اشعار بارگاہ رسالت میں شرف قبول پا گئے تو خود بھی مقبول ہوگئے رضی اللہ عنہ۔(مرقات)

۲؎ یہاں باطل بمعنی فانی ہے اور آیتِ کریمہ"رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بٰطِلًا"میں باطل بمعنی بیکار ہے یہ کلام قرآن کریم کے خلاف نہیں لبید کے اشعار یہ ہیں۔

الا   کل   شئی   ما   خلا   اللہ   باطل		 وکل نعیم لا محالۃ زائل 

نعیمك فی الدنیا غرور وحسرۃ		وعبثك فی الدنیامحل و باطل

سوی الجنۃ الفرد و س ان نعیمھا 		یبقٰی وان الموت لا بد نازل

چونکہ لبید نے یہ کلام زمانہ جاہلیت میں کہا تھا پھر قرآن کریم کی آیت کے مطابق ہوا"کُلُّ مَنْ عَلَیۡہَا فَانٍ"یا فرمان "کُلُّ شَیۡءٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجْہَہٗ" اس وجہ سے بارگاہِ نبوت میں بہت قبول ہوا۔
Flag Counter