Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
621 - 975
حدیث نمبر 621
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ہلاک ہوگئے گہری باتیں کرنے والے یہ تین بار کہا ۱؎(مسلم)
شرح
۱؎ تنطع بنا ہے نطع سے بمعنی حلق یا منہ کا غار،اس کے لفظی معنی ہیں حلق سے نیچے سے بات نکالنے والے اور مراد ہے نہایت فصیح و بلیغ اور مبالغہ آمیز مگر بے فائدہ بلکہ نقصان دہ کلام کرنے والے جیساکہ خوشامدی (جھولی چک)لوگ امیروں کی تعریف میں عمومًا کرتے ہیں۔کلام وہ ہے کہ سادہ ہو تھوڑا ہو مگر دل کی گہرائیوں سے نکلے اس کا دوسرے پر اثر ہوتا ہے قرآن و حدیث کی فصاحت بناوٹی نہیں نہ بیکار ہے بلکہ اس سے بے شمار فائدے ہیں کلام کی شیرینی اللہ کی رحمت ہے۔
Flag Counter