| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن حارث ابن جز سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں روٹی اور گوشت لایا گیا حالانکہ آپ مسجد میں تھے ۲؎ تو حضور نے کھایا اور آپ کے ساتھ ہم نے کھایا پھر آپ اٹھے نماز پڑھی اور ہم نے آپ کے ساتھ پڑھی اور اس پر زیادتی نہ کی ہم نے اپنے ہاتھ بجری سے پوچھ لیے۳؎(ابن ماجہ)
شرح
۱؎ آپ صحابی ہیں،جنگ بدر میں حاضر ہوئے،پھر عہدِ فاروقی میں جہاد مصر میں شرکت کی،وہاں ہی وفات پائی ۸۸ھ اٹھاسی ہجری میں وفات ہے۔(اشعہ و مرقات) ۲؎ غالبًا حضور انور معتکف تھے یا مہمان مسافر آئے تھے جنہیں مسجد میں ٹھہرایا گیا تھا یا یہ کھانا پینا بیان جواز کے لیے تھا۔خیال رہے کہ معتکف اور مسافر کو مسجد میں کھانا پینا بلاکراہت جائز ہے ان دونوں کے علاوہ دیگر لوگوں کے لیے چھوہارے وغیرہ خشک چیزیں کھانا جس سے مسجد کا فرش خراب نہ ہو جائز ہے، روٹی سالن وغیرہ تر چیزیں جس سے مسجد کے تلوث کا اندیشہ ہو نہ کھانا چاہیئے اور کھانا اس طرح کہ فرش مسجد خراب ہو ہرشخص کو حرام ہے خواہ معتکف و مسافر ہو یا ان کے غیر۔احناف کے نزدیک غیر معتکف و مسافر کو مسجد میں کھانا پینا سونا مکروہ ہے،دیکھو کتب فقہ۔ ۳؎ زمانہ رسالت شریف میں حرم نبوی میں بجری بچھی تھی اب بھی وہاں صحن میں بجری ہی ہے۔بجری سے ہاتھ مل دینے سے بجری خراب نہیں ہوتی اور ہاتھ بھی صاف ہوجاتے ہیں وہاں کھانا وغیرہ میں تکلف کوئی نہ تھا۔خیال رہے کہ یا تو نماز کی جلدی تھی یا بیان جواز کے لیے یہ عمل فرمایا ورنہ کھانا کھا کر ہاتھ دھونا،کلی کرنا سنت ہے لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں کھانا کے بعد ہاتھ دھونے،کلی کرنے کا حکم ہے کہ وہ بیان سنت کے لیے ہے اوریہ حدیث بیان جواز کے لیے۔