۱؎ بیان سے مراد ہے فصیح وبلیغ کلام جو دل کی بات ظاہر کرے،یہ بنا ہے بین سے بمعنی جدائی و فاصلہ یا بمعنی ظہور،شعر کے معنی ہیں دانائی و عقل مندی اس سے ہے شعور۔اصطلاح میں قافیہ وزن والے کلام کو شعر کہتے ہیں کہ یہ شاعر کی دانائی بتاتا ہے،نیز جھوٹے اور دلچسپ کلام کو بھی شعر کہا جاتاہے جیسے ناول رب فرماتا ہے:"وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ"وہاں یہ ہی ناول گوئی مرادہے۔
حدیث نمبر 619
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں دو شخص مشرق سے آئے ۱؎ انہوں نے وعظ کیا ا ن کی تقریر پر لوگوں نے تعجب کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو ہیں ۲؎(بخاری)
شرح
۱؎ ان دونوں کا نام زبرقان ابن بدر اور عمرو ابن اہشم تھا،یہ دونوں مدینہ منورہ کے مشرقی علاقہ سے آئے تھے،زبرقان نے اپنے فضائل میں بہت فصیح و بلیغ بیان دیا،پھر عمرو ابن اہشم نے زبرقان کی برائی و ہجو میں بہت فصیح کلام کیا جیساکہ زمانہ جاہلیت کے فصحاء اور خطباء کا طریقہ تھا۔ ۲؎ یعنی بعض کلام لوگوں کے دل اپنی طرف مائل کرنے میں،لوگوں کو حیران کر دینے میں جادو کا سا اثر رکھتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ بعض کلام جادو کی طرح حرام و باطل ہیں گناہ ہیں کہ ان میں جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بناکر دکھایا جاتا ہے غرضیکہ یہ فرمان یا بیان کی تعریف کے لیے ہے یا اس کی برائی کے لیے۔