روایت ہے عبدالحمید ابن جبیر ابن شیبہ سے فرماتے ہیں کہ میں سعید ابن جبیر کے پاس بیٹھاتھا ۱؎ تو انہوں نے مجھے خبر دی کہ ان کے دادا حزن نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو فرمایا تمہارا نام کیا ہے عرض کیا میرا نام حزن ہے فرمایا بلکہ تم سہل ہو ۲؎ عرض کیا میں وہ نام نہ بدلوں گا جو میرے باپ نے رکھا ہے۳؎ ابن مسیب نے کہا کہ پھر ہم میں ہمیشہ رنج و غم رہا ۴؎(بخاری)
شرح
۱؎ عبدالحمید بھی تابعی ہیں اور سعید ابن مسیب بھی،ابن مسیب بڑے مشہور عالم فقیہ تابعی ہیں،حضرت عمر کی خلافت میں آپ پیدا ہوئے،بہت صحابہ سے ملاقات کی مکحول کہتے ہیں کہ میں نے روئے زمین میں سعید ابن مسیب سے بڑا عالم نہ دیکھا،چالیس حج کیے، ۹۳ھ میں وفات پائی۔ ۲؎ حزن ح کے فتحہ سے سخت زمین اور سخت دل انسان،حزن ح کے پیش سے رنج و غم،سہل سین کے فتحہ ہ کے سکون سے نرم زمین اورنرم دل انسان،آسانی و نرمی کو بھی سہل کہتے ہیں،چونکہ حزن کے معنی اچھے نہیں اس لیے آپ نے تبدیلی نام کا مشورہ دیا۔ ۳؎ ان کا مقصد یہ تھا کہ سہل یعنی نرم زمین ہمیشہ پاؤ ں کے نیچے روندی جاتی ہے اس پر غلاظت ڈالی جاتی ہے اس لیے ایسا نام رکھنا میری ذلت ہے،نیز اپنے باپ کی یادگار کا مٹانا ہے اس لیے میں وہ نام رکھوں گا اسے بدلوں گا نہیں۔خیال رہے کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مشورہ تھا امر نہ تھا اس لیے حضور نے کچھ ارشاد نہ فرمایا حضور کا مشورہ قبول مستحب ہے واجب نہیں لہذا اس عرض پراعتراض نہیں۔خیال رہے کہ حزن ابن وہب ابن عمرو ابن عایذ مخزومی قرشی ہیں،اشراف قریش سے ہیں، بعد اسلام مہاجر ہوئے،بیعت الرضوان میں شریک ہوئے،شاید یہ واقعہ ان کی ہجرت کی ابتداء میں تھا جب کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے آداب سے واقف نہ تھے نہ آپ کے مشوروں کی قدرومنزلت جانتے تھے۔(اشعہ) ۴؎ یعنی حضرت حزن نے جو حضور انور کا مشورہ قبول نہ کیا اس کا اثر یہ ہوا کہ ہمارے خاندان بلکہ ہماری پشتوں میں رنج و غم رہا۔حزن کے بیٹے مسیب ہیں اور مسیب کے بیٹے سعید ابن مسیب ہیں،سعید کہتے ہیں کہ دادا کا اثر ہم پوتوں تک باقی رہا۔اس سے معلوم ہوا کہ برے ناموں کا برا اثر ہوتا ہے اور کبھی ایک شخص کی غلطی سے پورے خاندان پر برا اثر ہوتا ہے۔