۱؎ اس حکم میں کافر،فاسق،منافق سب ہی داخل ہیں بلا ضرورت خوشامد کے لیے ان لوگوں کو ایسے الفاظ کہنے سخت جرم ہیں،رب تعالی نے عزیز مصر کو حضرت یوسف علیہ السلام کا سید نہ کہا بلکہ زلیخا کا سید یعنی خاوند کہا"اَلْفَیَا سَیِّدَہَا لَدَا الْبَابِ"۔
۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ بے دین کو نہ تو صرف سید کہو نہ سید القوم کہو بے دین تو ذلیل ہے سید عزت والا ہوتا ہے،یوں ہی اسے سردار،سرور،حضور وغیرہ کہنا حرام ہے کہ تعظیمی الفاظ کفار کے لیے استعمال کرنا رب تعالٰی کی ناراضی کا باعث ہیں ضرورت دین یا ضرورت دنیاوی کی وجہ سے یہ کہنا معاف ہے یوں ہی بیدینوں کو مولانا تعظیمًا کہنا جائز نہیں کہ مولیٰ تو سید سے بھی زیادہ تعظیم کا لفظ ہے اللہ تعالٰی کے لیے مولانا فرمایا گیا سیدنا نہیں کہا گیا انت مولانا،ہاں اگر مولیٰ بمعنی غلام مراد لے کر اسے مولانا کہا جاوے تو جائز، رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَاِخْوٰنُکُمْ فِی الدِّیۡنِ وَ مَوٰلِیۡکُمْ" بہرحال توریہ جائز ہے تعظیم ناجائز،اس کی پوری تحقیق یہاں ہی مرقات میں دیکھو۔