| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
اور ایک منقطع روایت میں ہے فرمایا نہ کہو کہ چاہا اللہ نے اور چاہا محمد نے(صلی اللہ علیہ وسلم)اور کہو کہ صرف ماشاءاللہ ۱؎(شرح السنہ)
شرح
۱؎ یہ فرمان عالی انتہائی انکساروتواضع سے ہے کہ ہماری مشیت کا ذکر اللہ کی مشیت کے ساتھ ثم سے بھی نہ کرو صرف ماشاءاللہ کہو۔خیال رہے کہ قرآن کریم میں بہت جگہ حضور کا نام شریف رب کے نام سے ملایا گیا ہے دیکھو"اَنْ اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ،وَاللہُ وَرَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرْضُوۡہُ"لہذا یہ حدیث یا ضعیف ہے یا ان آیات سے منسوخ ہے استحباب کے بیان کے لیے ہے یا اظہار تواضع و انکسار کے لیے ہے بہرحال اس ملانے میں شرعًا گناہ نہیں۔