Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
614 - 975
حدیث نمبر 614
روایت ہے حضرت حذیفہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا یہ نہ کہو کہ اللہ نے چاہا اور فلاں نے چاہا لیکن کہو کہ اللہ نے چاہا پھر فلاں نے چاہا ۱؎ (احمد،ابوداؤ د)
شرح
۱؎ یعنی جب کسی وعدہ یا آئندہ خبر کو تم اللہ تعالٰی کی مشیت پر موقوف کرو اور ساتھ ہی کسی اور کے ارادہ کا بھی ذکر کرو تو رب ومربوب خالق و مخلوق کے نام واؤ  سے نہ ملا کہ اس میں مساوات یا بے ادبی کا احتمال ہے بلکہ ثم کہو تاکہ ثم کی تراخی سے ربوبیت و عبدیت کا فرق معلوم ہوجاوے رب کا ذکر پہلے بندے کا بعد میں اور بیچ میں ثم ہو کہ اللہ تعالٰی کی مشیت و ارادہ دائمی قدیم ہے اور ذاتی ہے بندہ کی مشیت حادث ہے اور رب کی مشیت کے تابع،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ مَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِیۡنَ"غرضیکہ یہ فرمان بہت اعلیٰ ہے۔
Flag Counter