۱؎ یعنی جب کسی وعدہ یا آئندہ خبر کو تم اللہ تعالٰی کی مشیت پر موقوف کرو اور ساتھ ہی کسی اور کے ارادہ کا بھی ذکر کرو تو رب ومربوب خالق و مخلوق کے نام واؤ سے نہ ملا کہ اس میں مساوات یا بے ادبی کا احتمال ہے بلکہ ثم کہو تاکہ ثم کی تراخی سے ربوبیت و عبدیت کا فرق معلوم ہوجاوے رب کا ذکر پہلے بندے کا بعد میں اور بیچ میں ثم ہو کہ اللہ تعالٰی کی مشیت و ارادہ دائمی قدیم ہے اور ذاتی ہے بندہ کی مشیت حادث ہے اور رب کی مشیت کے تابع،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ مَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِیۡنَ"غرضیکہ یہ فرمان بہت اعلیٰ ہے۔