| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابو مسعود انصاری سے کہ انہوں نے ابو عبداللہ سے کہا یا ابوعبداللہ نے ابو مسعود سے کہا ۱؎ کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے زعموا کے متعلق کیا فرماتے سنا ۲؎ فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ یہ انسان کی بری سواری ہے ۳؎(ابوداؤ د)اور فرمایا کہ ابو عبداللہ حذیفہ ہیں۔
شرح
۱؎ یہ شک اس حدیث کے راویوں میں سے کسی راوی کو ہے کہ ان دونوں بزرگوں میں سے کسی نہ کسی سے پوچھا ابو مسعود انصاری کے حالات تو بارہا بیان ہوچکے ہیں اور ابو عبداللہ کنیت ہے حضرت حذیفہ ابن یمان کی محدثین جب ابو عبداللہ بولتے ہیں تو آپ مراد ہوتے ہیں۔(مرقات و اشعہ) ۲؎ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ ہر بات کے متعلق کہتے ہیں کہ لوگ یہ کہتے ہیں بات بات میں یہ لفظ بولنے کے عادی ہوتے ہیں فرمایئے تو خصلت اچھی ہے یا بری اگر بری ہے تو کس درجہ کی اور آپ نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کے متعلق کچھ فرماتے سنا ہے یانہیں۔ ۳؎ مطیہ وہ اونٹنی جس پر سوار ہو کر کسی منزل پر پہنچا جاوے،اس لفظ زعموا کو حضور انور نے سواری قرار دیا اور سواری بھی بری جو منزل مقصود پر نہ پہنچائے اس لیے کہ اس لفظ کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ خبر دینے والا خود تو اس پر یقین رکھتا نہیں اور خبر دینے والے کا پتہ بھی صحیح نہیں بتاتا کہ فلاں نے کہا بلکہ یوں بولتا ہے کہ لوگ کہتے ہیں۔مقصد یہ ہے کہ اگر یہ خبر جھوٹی ہو تو میں اس کا ذمہ دار نہیں نہ مجھے اس کے ذمہ دار کی خبر ہے،غیر ذمہ داری کی باتیں کرنا برا ہے جو بات کہو ذمہ داری سے کہو احتیاط سے بولو زبان پر قفل لگاؤ منہ کو لگام دو اس ایک کلمہ میں بہت نصیحتیں ہیں۔