| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت اس سبزی سے رکھی جسے میں چنا کرتا تھا ۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث وہ ہے جسے صرف اسی وجہ سے ہم پہچانتے ہیں اور مصابیح میں سے صحیح کہا۲؎
شرح
۱؎ اس گھاس کا نام حمزہ تھا جیسے فارسی میں ترہ تیزک کہتے ہیں اردو میں ترہ تیزی،اس کے پتے میتھی کے ساگ کی طرح ہوتے ہیں مزہ ترش کچھ تیزی کے ساتھ میتھی کے ساگ میں اکثر یہ بھی آجاتی ہے،بچے اسے بڑے شوق سے کھاتے ہیں یعنی میں یہ گھاس(حمزہ)چن کر لاتا خود کھاتا اوروں کو کھلاتا تھا اس لیے حضور نے میری کنیت ابو حمزہ رکھی یعنی حمزہ والے۔ ۲؎ یہ حدیث ایک اسناد میں غریب ہے دوسری اسناد میں صحیح،ایک ہی حدیث صحیح بھی ہوسکتی ہے اور ضعیف بھی،حسن بھی،غریب بھی مختلف اسنادوں سے۔