۱؎ آپ محمد ابن علی ابن ابی طالب ہیں،کنیت ابوالقاسم ہے،آپ کی والدہ خولہ بنت جعفر حَنفیہ ہیں یعنی بنی حَنفیہ قبیلہ کی ہیں،خلافت صدیقی میں گرفتار ہوکر جنگ یمامہ سے آئیں، ۸۱ھ اکیاسی ہجری میں آپ کی وفات ہوئی،چھپن سال عمر پائی،مدینہ منورہ میں دفن ہوئے،خود تابعی ہیں اور آپ کے بیٹے ابراہیم تبع تابعی انہی نے آپ سے کچھ احادیث روایت کیں۔
۲؎ یعنی حضرت علی مرتضٰی نے حضور انور سے پوچھا کہ اگر آپ کی وفات کے بعد فاطمہ زہرا یا کسی اور بیوی سے میرا لڑکا پیدا ہو تو کیا اس کا نام محمد،کنیت ابو القاسم رکھ دوں فرمایا رکھ دو۔اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ حضور کی وفات کے بعد دونوں کا اجتماع جائز ہے۔بعض لوگوں نے کہا کہ یہ حضرت علی کی خصوصیت ہے مگر یہ درست نہیں اگر خصوصیت ہوتی تو حضور کی حیات شریف میں بھی آپ اس پر عمل فرما لیتے حضرت حسن و حسین میں دونوں کا اجتماع فرمادیتے امام حسن کی کنیت ابو محمد ہے اور حضرت حسین کی کنیت ابو عبداللہ ہے۔