۱؎ یعنی نہ تو کسی چیز کی ٹیک لگا کر کھانا کھاتے نہ اپنے ہاتھ پر تکیہ لگا کر کھاتے کہ یہ طریقہ متکبرین کا ہے، اکثر اوکڑوں بیٹھ کر کھاتے کہ یہ طریقہ متواضعین کا ہے۔
۲؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم راہ میں دو آدمیوں سے بھی آگے نہ چلتے تھے تاکہ آپ اپنی بڑائی ظاہر کریں بلکہ آپ سب کے ہمراہ چلتے تھے،یہ تو تھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی عادت کریمہ مگر قدرتی کرشمہ یہ تھا کہ حضور بہت آہستہ چلتے اور ساتھی تیز چلتے تب بھی آپ کے ہمراہ نہ چل سکتے تھے پیچھے ہی رہ جاتے تھے گویا زمین حضور کے لیے لپیٹی جاتی تھی جیساکہ ان شاءاللہ باب المعجزات میں آوے گا۔اسی طرح بہت لمبے قد والے حضرات آپ کے ساتھ ہوتے مگر سب سے اونچے آپ ہی معلوم ہوتے تھے،یہ معجزہ اب بھی گنبد خضراء شریف سے ظاہر ہے۔خیال رہے کہ دنیا میں پیشوا بن کر رہنا بھی کبھی خدا کا عذاب ہوتا ہے۔مرقات میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کویہ دعا دی تو فرمایا کہ الٰہی اگر یہ جھوٹا ہے تو اسے لوگوں کا پیشوا بنادے کہ لوگ اس کے پیچھے چلا کریں جو سرداری کا اہل نہ ہو اور کوشش سے سرداری حاصل کرے اس کے لیے سرداری عذاب ہے۔