Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
608 - 975
حدیث نمبر 608
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ ایک عورت نے عرض کیا یارسول اللہ میں نے ایک لڑکا جنا ہے تو میں نے اس کا نام محمد رکھا ہے اور کنیت ابوالقاسم رکھی ہے ۱؎  تو مجھ سے ذکر کیا گیا کہ آپ اسے ناپسند کرتے ہیں تو فرمایا وہ کیا ہے جس نے میرا نام حلال کیا اور میری کنیت حرام کی یا کس نے میری کنیت حرام کی اور میرا نام حلال کیا ۲؎(ابوداؤ د)محی السنہ نے کہا کہ یہ غریب ہے۔
شرح
۱؎ معلوم ہواکہ لڑکپن میں بچہ کی کنیت ابو سے جائز ہے یہاں ابو کے معنی ہوتے ہیں والا نہ کہ والد یعنی باپ۔

۲؎  یہ حدیث صحیح نہیں اگر صحیح ہو بھی تب بھی اس کے معنی یہ ہیں کہ میرا نام اور میری کنیت جمع فرمانا حرام نہیں۔ہم نے جو ممانعت فرمائی ہے وہ کراہت تنزیہی کے لیے ہے لہذا یہ حدیث گزشتہ ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں اس اجتماع کی ممانعت ہے۔(اشعہ،مرقات)یا یہ مطلب ہے کہ اس اجتماع کی ممانعت دائمی نہیں ہماری حیات شریف میں ہے۔
Flag Counter