۱؎ یہ حدیث گزشتہ حدیث کی شرح ہے جس میں حضور انور نے اپنی کنیت رکھنے سے منع فرمایا اس حدیث نے شرح کردی کہ حضور انور کا نام اور کنیت دونوں جمع کرنا منع ہے وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ حیات شریف میں بعد وفات یہ اجتماع بھی جائز ہے۔چنانچہ حضرت علی نے اپنے ایک بیٹے کا نام محمد اور اس کی کنیت ابوالقاسم رکھی جنہیں محمد ابن حَنفیہ کہا جاتا ہے ان کی ماں کا نام خولہ بنت جعفر تھا،قبیلہ بنی حَنفیہ سے تھی،جنگ یمامہ میں گرفتار ہو کر آئیں،حضرت صدیق اکبر نے حضرت علی کو ہبہ کردیں آپ نے ان سے نکاح کرلیا۔