۱؎ بعض روایات میں ہے کہ انسانوں کو ان کی ماں کے نام سے پکارا جائے گا۔غالبًا اس میں حکمت یہ ہوگی کہ حرامی لوگ رسوا نہ ہوں یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اظہار شرافت کے لیے یا حضرت حسن و حسین کی عظمت کے اظہار کے لیے کہ حضرت فاطمہ زہرا کی طرف نسبت سے ان کو حضور اقدس سے نسبت کا شرف حاصل ہوجاؤ ے۔(اشعہ)مگر ان روایات میں تعارض نہیں قیامت کے اول وقت ماؤ ں کے نام سے پکارا جاوے گا بعد میں باپوں کے نام سے یا سب کے سامنے ماں کے نام سے پکارا جاوے گا تنہائی میں باپ کی نسبت سے یا۔یہاں اباء سے مراد امہات ہے بہت دفعہ ماں باپ کو ایک دوسرے کے نام سے یاد کردیتے ہیں۔(اشعہ)