Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
604 - 975
حدیث نمبر 604
روایت ہے مسروق سے ۱؎  فرماتے ہیں میں حضرت عمر سے ملا تو فرمایا تم کون ہو میں بولا مسروق ابن اجدع جناب عمر نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اجدع شیطان ہے ۲؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ آپ کوفی ہمدانی ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات سے پہلے اسلام لائے،اکابرصحابہ سے ملاقات کی،ایک بار چرائے گئے تھے پھر والدین کی تلاش پر ملے اس لیے آپ کا نام مسروق ہوا یعنی چورائے ہوئے یا اغواء کیے ہوئے ایک بار آپ بہت غریب ہوگئے تو خالد ابن عبداللہ حاکم بصرہ نے آپ کو تیس ہزار درہم دینے کی کوشش کی مگر آپ نے رد فرمادیئے توکل کایہ عالم تھا۔(مرقات)

۲؎  یعنی شیطان کی ایک قسم کا نام اجدع ہے یعنی ہر چیز سے کٹا ہوا اب ناک کان کٹے کو اجدع کہا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اگر تمہارے والد زندہ ہیں تو ان سے کہہ کر نام بدلو اور تاکہ تم کو ابن الاجدع نہ کہا جاوے اور اپنی اولاد میں کسی کا نام اجدع نہ رکھو تاکہ تم کو ابو الاجدع نہ کہا جاوے۔
Flag Counter