۱؎ آپ کوفی ہمدانی ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات سے پہلے اسلام لائے،اکابرصحابہ سے ملاقات کی،ایک بار چرائے گئے تھے پھر والدین کی تلاش پر ملے اس لیے آپ کا نام مسروق ہوا یعنی چورائے ہوئے یا اغواء کیے ہوئے ایک بار آپ بہت غریب ہوگئے تو خالد ابن عبداللہ حاکم بصرہ نے آپ کو تیس ہزار درہم دینے کی کوشش کی مگر آپ نے رد فرمادیئے توکل کایہ عالم تھا۔(مرقات)
۲؎ یعنی شیطان کی ایک قسم کا نام اجدع ہے یعنی ہر چیز سے کٹا ہوا اب ناک کان کٹے کو اجدع کہا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اگر تمہارے والد زندہ ہیں تو ان سے کہہ کر نام بدلو اور تاکہ تم کو ابن الاجدع نہ کہا جاوے اور اپنی اولاد میں کسی کا نام اجدع نہ رکھو تاکہ تم کو ابو الاجدع نہ کہا جاوے۔