Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
59 - 975
حدیث نمبر 59
روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ کے پاس ثرید کا پیالہ لایا گیا ۱؎ تو فرمایا کہ اس کے کناروں سے کھاؤ اور اس کے بیچ سے نہ کھاؤ ۲؎ کیونکہ برکت برتن کے بیچ میں اترتی ہے۔(ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے صحیح ہے اور ابوداؤد کی روایت ہے فرمایا جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو پیالے کے اوپر سے نہ کھائے لیکن اس کے نیچے سے کھائے ۳؎ کیونکہ برکت اس کے اوپر سے اترتی ہے ۴؎
شرح
۱؎ ثرید بنا ہے ثرد سے بمعنی بھگونا اور تر کرنا۔اصطلاح میں ثرید یہ ہے کہ روٹی کے ٹکڑے شوربے میں بھگوئے جائیں،ثرید حضور انور کو پسند تھا،طبی لحاظ سے بھی ثرید زود ہضم اور مفید ہے حضور کی یہ ادا حکمت سے پُر ہے۔قصعہ وہ بڑا پیالہ ہے جس سے چند آدمی بیک وقت کھاسکیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم اکیلے کھانا نہ کھاتے تھے جماعت کے ساتھ کھاتے تھے۔کسی نے کیا خواب کہا ہے۔

خوردہ ہماں بہ کہ بہ سبہا خوری 		حیف براں خوردہ کہ شبہا خوری

۲؎  یعنی ہر شخص اپنے سامنے والے کنارہ سے کھائے بیچ پیالے سے نہ کھائے،درمیان پیالہ نزول رحمت کی جگہ ہے درمیان پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔

۳؎  یہاں بھی نیچے سے مراد اپنے سامنے والا کنارہ ہے اور اوپر سے مراد پیالہ کا درمیانی حصہ ہے مطلب وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا۔درمیانی پیالہ حد مشترک ہے اور پیالہ کے کنارے ہر کھانے والے کا حق ہے۔بیچ سے کھانا حرص کی علامت ہے، حریص رحمت الٰہی سے محروم ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے کھانے کے وقت بھی رحمت باری کا نزول ہوتا ہے خاص کر جب کہ سنت کی نیت سے کھایا جائے۔

۴؎ نیچے سے مراد برتن کے کنارے ہیں جہاں سے کھانے والے کھائیں گے اور اوپر سے مراد درمیان برتن ہے،چونکہ یہ درمیانی جگہ قدر مشترک ہے اس لیے برکت کا وہاں ہی نزول مناسب ہے۔اس فرمان عالی میں برکت اور رحمت کو اس پانی سے تشبیہ دی گئی جو اوپر یعنی اونچی جگہ میں اترے اور وہاں سے چو طرفہ کناروں میں پہنچ جائے۔
Flag Counter