Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
6 - 975
حدیث نمبر 6
روایت ہے محمد ابن علی ابن حسین سے ۱؎ وہ حضرت علی ابن ابی طالب سے راوی فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب حسن رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک بکری سے عقیقہ کیا ۲؎ اور فرمایا فاطمہ اس کا سر منڈا دو اور ان کے بالوں کے وزن کی چاندی خیرات کردو تو ہم نے بال تولے تو ایک درہم یا بعضہ درہم وزن ہوا ۳؎(ترمذی)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد متصل نہیں کیونکہ محمد ابن علی ابن حسین نے علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو نہ پایا ۴؎
شرح
۱؎ آپ کا نام شریف محمد ہے،لقب امام باقر اور آپ کے والد ماجد کا نام علی ہے لقب امام زین العابدین،ان کے والد ماجد کا نام اقدس حضرت امام حسین لقب شہیدکربلا واقعہ کرب و بلا رضی ا للہ عنہم اجمعین۔امام زین العابدین ہر شب ایک ہزار رکعت نفل پڑھتے تھے،امام باقر کی کنیت ابوجعفر ہے،آپ تابعین میں سے ہیں، حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ملاقات ہے،آپ کے بیٹے امام جعفر صادق ہیں،امام باقر کی ولادت   ۵۶ھ؁ چھپن ہجری میں ہوئی اور موت   ۱۱۷ھ؁  یا    ۱۱۸ھ؁  میں مدینہ منورہ میں ہوئی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے،تریسٹھ سال عمر شریف ہوئی۔اس گنہگار نے بارہا قبر انور کی زیارت کی ہے۔

۲؎ حضرات حسنین کریمین کے عقیقوں کے متعلق تین روایات آئی ہیں:ایک، ایک بکری سے عقیقہ فرمایا،دو۲،دو۲  بکریوں سے عقیقہ فرمایا،بکری سے عقیقہ فرمایا یعنی اس میں ایک یا دو کا ذکر نہیں،یہ تیسری روایت ہے۔اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ ایک ایک بکری کی روایت صحیح ہے اور دو۲،دو۲ کی روایت زیادہ صحیح ہے۔علماء کرام فرماتے ہیں کہ لڑکے کا عقیقہ ایک بکری سے جائز ہے دو سے بہتر ہے کیونکہ ایک بکری کی حدیث فعلی ہے اور دو کی حدیث قولی یعنی حکم دیا دو کا اورجب قول و فعل میں تعارض معلوم ہو تو ترجیح قولی کو ہوتی ہے،نیز دو بکریوں کی حدیث بہت صحابہ کرام سے مروی ہے،نیز ایک بکری میں جواز کا ذکر دو۲ کی روایت میں استحباب کا۔

۳؎ یہ شک حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہےیا کسی نیچے کے راوی کی طرف سے۔

۴؎ کیونکہ امام محمد باقر کی ولادت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے عرصہ بعد ہوئی لہذا درمیان میں کوئی راوی رہ گیا ہے اورحدیث منقطع ہے یا بعض محدثین کی اصطلاح میں مرسل ہے۔
Flag Counter