Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
5 - 975
حدیث نمبر 5
روایت ہے حسن سے وہ حضرت سمرہ سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکا اپنے عقیقہ میں گروی ہوتا ہے۲؎ ساتویں دن اس کی طرف سے ذبح کیا جائے اور نام رکھا جائے اس کا سر مونڈا جائے ۳؎ احمد،ترمذی، ابوداؤد، نسائی۔لیکن ان دونوں کی روایت میں بجائے مرتہن کے رھینہ ۴؎ ہے اور احمد و داؤد کی روایت میں نام رکھنے کی بجائے ہے کہ خون سے لتھیڑ دیا جائے ۵؎ ابوداؤد نے کہا یسمّی زیادہ صحیح ہے ۶؎
شرح
۱؎ خواجہ حسن بصری تابعی ہیں اور حضرت سمرہ ابن جندب صحابی ہیں،ان صحابی کا آخری زمانہ میں قیام بصرہ میں رہا،آپ سے خواجہ حسن بصری اور ابن سیرین وغیرہ جلیل القدر تابعین نے روایات لیں،آپ کے حالات بارہا بیان کیے جاچکے ہیں۔

۲؎ یعنی بچہ دنیاوی آفات و مصیبتوں کے ہاتھوں میں ایسا گرفتار ہوتا ہے جیسے گرو چیز قرض کے قبضہ میں قید ہوتی ہے کہ اس سے مالک نفع حاصل نہیں کرسکتا یا مطلب یہ ہے کہ بچہ کی شفاعت اپنے باپ وغیرہم کے لیے عقیقہ پر موقوف ہے کہ اگر بغیر عقیقہ فوت ہوگیا تو ممکن ہے کہ ماں باپ کی شفاعت نہ کرے۔(مرقات) خیال رہے کہ یہاں مرتہن بمعنی رہین یا مرہون ہے۔

۳؎ یعنی بچہ کی ولادت کے ساتویں دن یہ تین کام کیے جائیں: اس کا نام رکھنا،سرمنڈوانا استرے سے اورجانور ذبح کرنا سنت یہ ہی ہے اور اگر ساتویں دن نہ ہوسکے تو پندرھویں دن یا جب کبھی بھی عقیقہ ہوسکے تو ساتویں دن کا حساب لگایا جائے کہ جب بھی عقیقہ کیاجائے اس کی پیدائش سے ایک دن پہلے کیا جائے مثلًا اگر بچہ جمعہ کے دن پیدا ہوا ہے تو جب بھی عقیقہ کیا جائے جمعرات کو کیا جائے۔

۴؎ مہرتہن اور رہینہ دونوں کے معنی ایک ہی ہیں صرف لفظ کا فرق ہے۔

۵؎ یعنی بچہ کے سر پر ذبیحہ کا خون مل دیا جائے۔

۶؎ لہذا سنت یہ ہے کہ بچہ کے سر پر بجائے خون کے زعفران ملا جائے کیونکہ خون نجس ہے اور بدبودار بھی اور زعفران پاک ہے اور خوشبودار بھی۔
Flag Counter