Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
597 - 975
حدیث نمبر 597
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کوئی نہ کہے کہ میرا عبد میری امۃ تم سب اللہ کے عبد ہو اور تمہاری تمام عورتیں اللہ کی لونڈیاں ہیں ۱؎ لیکن کہے کہ میرا غلام اورمیری لونڈی اور میرا فتا اور میری فتات۲؎  اور غلام نہ کہے کہ میرا رب لیکن کہے میرا سید اور ایک روایت میں ہے کہ کہے میرا سید میرا مولا۳؎  اور ایک روایت میں ہے کہ غلام اپنے آقا کو مولا نہ کہے کیونکہ تمہارا مولیٰ اللہ ہے ۴؎(مسلم)
شرح
۱؎ عبد بمعنی عابد بھی ہے اور بمعنی خادم بھی بمعنی عابد ہو تو صرف رب تعالٰی کی طرف نسبت ہوگا جیسے عبداللہ یا عباداللہ بمعنی خادم بندوں کی طرف مضاف ہوجاتا ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"مِنْ عِبَادِکُمْ وَ اِمَآئِکُمْ"چونکہ اس میں عابد کے معنی کا بھی احتمال ہے لہذا عبدی کہنا مناسب نہیں،یوں ہی امہ کے معنی ہیں مملوک،حقیقی مالک رب تعالٰی ہی ہے اور حقیقی مملوک ہم سب اس کے ہیں لہذا بہتر یہ ہی ہے کہ امۃ کو اپنی طرف نسبت نہ کرو۔

۲؎  خیال رہے کہ یہ حکم استحبابی ہے نہ کہ لازمی حکم لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ"مِنْ عِبَادِکُمْ وَ اِمَآئِکُمْ"اہل عرب دن رات کہتے ہیں عبدی فقہا، ہمیشہ فرماتے ہیں عبدی حر لہذا نہ اہل عرب گنہگار ہیں نہ فقہاء۔

۲؎  رب بمعنی مربی،بندہ کو کہنا جائز ہے یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کے نوکر سے کہا تھا"ارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ"قرآن کریم میں ہے "رَبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا"۔

۴؎ یہاں بھی یہ ہی ہے کہ مولیٰ کہنا بالکل جائز ہے حضور انور نے خود فرمایا مولی القوم منھم مگر چونکہ مولیٰ کے چند معنی ہیں: ایک معنی وہ ہیں جو صرف رب تعالٰی کی صفت ہے اس لیے اگر یہ لفظ بندے کے لیے نہ بولے تو بہتر ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ حدیثیں منسوخ ہوں ان کی ناسخ وہ احادیث و آیات ہوں جن میں بندوں کے لیے مولیٰ،عبد،سید وغیرہ کہا گیا ہے لہذا عبدالنبی،عبدالرسول وغیرہ نام جائز ہیں،صاحب درمختار کے شیخ کا نام عبدالنبی تھا دیکھو درمختار کا مقدمہ،اس کی مکمل بحث ہماری کتاب جاء الحق میں دیکھو۔
Flag Counter