Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
598 - 975
حدیث نمبر 598
روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کرم نہ کہو کیونکہ کرم مؤمن کا دل ہے ۱؎ (مسلم)
شرح
۱؎ اہلِ عرب انگور کو اس لیے کرم کہتے تھے کہ اس سے شراب بنتی ہے شراب پی کر انسان نشہ میں بہت سخی بن جاتا ہے کہ اپنا مال جائز ناجائز جگہ خوب اڑاتا ہے،وہ سمجھتے تھے کہ انگور شراب کی اصل ہے اور شراب کرم و سخاوت کی اصل لہذا انگور گویا سراپا کرم و سخاوت ہے جب شراب حرام کی گئی تو انگور کو کرم کہنے سے بھی منع کردیا گیا اور فرمایا گیا کہ کرم تو مؤمن کا قلب یا خود مؤمن تم ایسا اچھا نام ایسی خبیث چیز کو کیوں دیتے ہو۔عربی میں اچھی زمین،انگور،حج،جہاد سب کو کرم کہتے ہیں،یہ حدیث اس کی طرف اشارہ کررہی ہے،رب فرماتاہے:"اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ"۔(مرقات)بہرحال یہ ممانعت یا محض تنزیہی ہے یا منسوخ ہے اس حدیث کی اور بہت توجیہیں ہیں جو اشعہ نے بیان کیں۔
Flag Counter