۱؎ عاصیہ عاصی بمعنی گنہگار کا مؤنث نہیں وہ تو عصیان سے بنتا ہے بلکہ عاص یا عیص کا مؤنث،عرب میں عیص گنجان درخت کو کہتے ہیں۔چنانچہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بھائی کا نام عیص ابن اسحاق تھا ایک صحابی کا نام ابوالعاص ہے ان ناموں کا ماخذ یہ ہی عیص ہے۔(مرقات)
۲؎ چونکہ عاصیہ کے ایک معنی گنہگار عورت بھی ہے اس لیے حضور انور نے یہ نام بدل دیا،اہل جاہلیت اس نام کے معنی کرتے تھے برائیوں سے انکار کرنے والی بی بی۔خیال رہے کہ برہ اور جمیلہ میں فرق یہ ہے کہ برہ بذات خود نیک اور جمیلہ اللہ تعالٰی کے فضل سے نیک بی بی جس سے نیک اعمال ہی سرزد ہوں۔جمیلہ بنا ہے جمال بمعنی حسن سے،عاصیہ کا مقابل مطیعہ ہے مگر جو جمیل ہو وہ مطیع بھی ہے۔(مرقات)