Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
592 - 975
حدیث نمبر 592
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بدترین نام کا وہ شخص ہے جس کا نام ملک الاملاک رکھاجاوے ۱؎(بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا اللہ کا سخت غضب ناک قیامت کے دن اور خبیث ترین وہ شخص ہے جس کا نام ملک الاملاک رکھا جاوے خدا کے سوا کوئی بادشاہ نہیں ۲؎
شرح
۱؎ اس لیے کہ ان ناموں میں فخروتکبر کا اظہار ہے نہ ذلت کے نام رکھو نہ فخروتکبر کے۔خیال رہے کہ ناموں کا اور حکم ہے القاب و خطابات کا دوسرا حکم۔کسی کو ملک العلماء کا خطاب دینا ممنوع نہیں نام رکھنا ممنوع ہے، ملک الاملاک کا ترجمہ ہے بادشاہوں کا بادشاہ یعنی شہنشاہ اورظاہر ہے کہ اس نام میں تکبر ہے۔اس عبارت میں رجل سے پہلے نام محذوف ہے اور یہ اخنی الاسماء کی خبر ہے۔(اشعہ)

۲؎  یعنی حقیقی اور دائمی بادشاہ اللہ تعالٰی ہے بندوں کی بادشاہت و ملکیت عارضی ہے ایسے نام رکھنے والا گویا رب تعالٰی کا مقابلہ کرتا ہے۔خیال رہے کہ  املاك جمع ہے ملك کی لام کے کسرہ سے اور ممالک جمع ہے ملک کی لام کے ضمہ سے ملوك جمع ہے ملک بمعنی بادشاہ کی مالک الملوک،مالک الاملاک اور مالک ممالک تمام نام ممنوع ہیں۔خیال رہے کہ یہ ناراضی جب ہے جب کہ وہ شخص اس نام سے راضی ہو اگر راضی نہیں تو وبال اس کے ماں باپ پر ہے جنہوں نے اس کا نام یہ رکھا اسے چاہیے کہ اپنا نام تبدیل کرے۔
Flag Counter