| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارادہ کیا کہ یعلیٰ،برکت،افلح،یسار،نافع اور ان کی مثل نام رکھنے سے منع فرمادیں میں نے پھر آپ کو دیکھا کہ بعد میں اس سے خاموش رہے پھر وفات پاگئے ۱؎ اور اس سے منع نہ فرمایا۔(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی مجھے علامات سے معلوم ہوتا تھا کہ حضور انور ان ناموں سے ممانعت فرمادیں گے مگر کی نہیں یا تو حضرت جابر کو ممانعت کی خبر نہ ہوئی،پچھلی روایت میں ممانعت گزرچکی اور نفی کی روایت پر ثبوت کی روایت مقدم ہوتی ہے یا یہاں مراد حرمت کی نہی ہے یعنی یہ نام رکھنا حرام نہ فرمایا اور پچھلی روایات میں تنزیہی کراہت کی نہی تھی لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔یہاں مرقات میں ناموں کی بہت تفصیل ہے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خوب،ولید،رباح،حکم،کلب کلیب وغیرہ ناموں سے منع فرمایا وہ ہی کراہت تنزیہی۔