Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
590 - 975
حدیث نمبر 590
روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اپنے غلام کا نام نہ یسار رکھو ۱؎ نہ رباح نہ نجیح اور نہ افلح ۲؎  کیونکہ تم کہو گے کہ کیا یہاں وہ ہے  ہوگا نہیں تو کہے گا نہیں ۳؎ (مسلم)اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ اپنے غلام کا نام نہ رباح رکھو نہ یسار نہ افلح نہ نافع ۴؎
شرح
۱؎  غلام سے مراد مطلقًا لڑکا ہے خواہ بیٹا ہو یا غلام یا کوئی اور،وہ جس کا نام رکھنا ہمارے قبضہ میں ہو۔نہی تنزیہہ کی ہے یعنی یہ نام بہتر نہیں۔

۲؎  یسار کے معنی ہیں فراخی،عسر کا مقابل، رباح کے معنی ہیں نفع خسارہ کا مقابل، نجیح کے معنی ہیں کامیاب ظفریاب،افلح کے معنی ہیں نجات والا یہ ممانعت صرف ان ناموں میں محدود نہیں بلکہ ان جیسے اور نام جن کی معنی میں خوبی و عمدگی ہو جیسے ظفر،برکت وغیرہ۔(اشعہ)یہ نام نہ رکھنا بہتر ہے اس کی وجہ خود بیان فرمارہے ہیں۔

۳؎  تو اس صورت میں تمہارے گھر سے نفع ،فتح،نجات کی نفی ہوجاوے گی نام رکھے تھے نیک فالی کے لیے مگر جب ان کی نفی کی گئی تو بدفالی ہوگی۔

۴؎ اس روایت میں نافع نہ تھا یہاں نافع بھی ہے۔خیال رہے کہ سب سے اعلیٰ و افضل نام محمد اور احمد ہے کہ رب کے محبوب کے نام ہیں پھر ابراہیم،اسماعیل وغیرہ کہ حضرات انبیاء کے نام ہیں،پھر عبداللہ عبدالرحمن عبدالستار وغیرہ کہ ان میں اپنی عبدیت اور اللہ کی ربوبیت کا اعلان ہے،بے معنی یا برے معنی والے نام ممنوع ہیں جیسے،بدھو،تلو یا جیسے نسیم،ریاض،جاوید،اختر وغیرہ۔
Flag Counter