Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
589 - 975
حدیث نمبر 589
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تمہارے ناموں میں رب تعالٰی کو بہت پسند نام عبداﷲ اور عبدالرحمن ہے ۱؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہ نام اس لیے پیارے ہیں کہ ان میں اپنی عبدیت کو رب کی طرف نسبت کیا گیا ہے تو اس  میں دونوں چیزوں کا اظہار ہے اپنی عبدیت،اللہ کی ربوبیت یعنی انبیاءکرام کے ناموں کے بعد یہ نام رب کو بہت پسند ہیں۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ کسی نبی کے نام پر نام رکھے،اس کے بعد یہ بہتر ہے کہ یہ نام رکھے۔یہاں عبداللہ اور عبدالرحمن بطور تمثیل فرمائے گئے اسماء الہیہ میں سے کسی کی طرف عبدیت کی طرف نسبت کرے بہتر ہے۔خیال رہے کہ ملائکہ کے نام پر نام رکھنا ممنوع ہے لہذا کسی چیز کا جبریل یا میکائیل نام نہ رکھو جیساکہ حدیث میں ہے۔(مرقات)چنانچہ بخاری نے اپنی تاریخ میں ایک حدیث نقل کی کہ نبیوں کے نام پر نام رکھو فرشتوں کے نام پر نام نہ رکھو۔
Flag Counter