| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم پاخانہ سے تشریف لائے تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا تو صحابہ نے عرض کیا کہ کیا ہم وضو کا پانی حاضر نہ کریں ۱؎ فرمایا کہ وضو کا حکم دیا گیا صرف جب کہ نما ز کی طرف کھڑا ہوں ۲؎ (ترمذی،ابواؤد)نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔
شرح
۱؎ وہ حضرات سمجھے تھے کہ کھانے سے پہلے شرعی وضو کرنا واجب ہے اس لیے وضو کے لیے پانی لانے کی اجازت مانگی۔ ۲؎ یہ حصر غالب حالت کے لحاظ سے ہے ورنہ سجدۂ تلاوت،قرآن پاک چھونے،طواف کعبہ کرنے کے لیے بھی وضو کرنے کا حکم ہے،سجدۂ تلاوت کے لیے وضو شرط ہے۔مقصد یہ ہے کہ ہمارے اس فرمان میں کہ کھانا وضو کرکے کھاؤ وضو سے مراد عرفی وضو ہے اور حکم استحبابی ہے،شرعی وضو کھانے کے لیے نہ فرض ہے نہ سنت،اس میں امت پر آسانی ہے۔