۱؎ یعنی اللہ کی ہر نعمت تقسیم میرے ہاتھ سے ہوتی ہے دنیاوی نعمت ہو یا اخروی اس لیے حضرات صحابہ نے بارش،جنت،آنکھیں،دولت،اولاد حضور سے مانگی ہیں جب جنت ہی حضور سے مانگ لی تو دیگر چیزیں بدرجہ اولیٰ حضور سے مانگی جاسکتی ہیں اس کے لیے کہ ہماری کتاب سلطنت مصطفی اور جاء الحق کا مطالعہ کرو۔ دوسری روایت میں ہے اللہ المعطی وانا القاسم نہ اللہ کی عطا مقید ہے نہ حضور کی تقسیم رب فرماتاہے: "اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ"۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ ممانعت حضور کی حیات شریف میں تھی بعد وفات ہر طرح اجازت ہے خواہ حضور انور کا نام رکھے یا آپ کی کنیت یا دونوں جمع کردے کہ نام رکھے محمد،کنیت رکھے ابو القاسم،اس کے متعلق اور بہت سے قول ہیں یہ ہی قول قوی ہے جو ہم نے عرض کیا کہ یہ حکم حیات شریف میں تھا۔(مرقات و اشعہ)حضرت علی نے حضور کے بعد اپنے بیٹے کا نام محمد کنیت ابوالقاسم رکھی جنہیں محمد ابن حَنفیہ کہا جاتا ہے اور انہوں نے حضور سے پہلے پوچھا تھا کہ کیا میں آپ کے بعد اپنے کسی بیٹے کا نام محمد،کنیت ابو القاسم رکھ سکتا ہوں فرمایا تھا ہاں۔خیال رہے کہ اگر قاسم قوی ہو تقسیم بھی قوی ہوتی ہے،ڈول،چرسہ،رہٹ،ٹیوب ویل،دریا بادل سب ہی پانی تقسیم کرتے ہیں مگر ان کی تقسیموں میں جو فرق ہے وہ معلوم ہے۔سارے نبی اﷲ کی نعمتیں تقسیم کرتے تھے حضور بھی تقسیم کرتے ہیں حضورکی تقسیم بہت قوی ہے،تمام امتوں میں وضو تھا مگر اعضاء کا چمکنا حضور کی امت کے وضو سے ہے،پانچ نمازوں کا ثواب پچاس ہے،کیوں،اس لیے کہ یہ حضور کی تقسیم سے ملی ہیں اب پڑھو اللہ المعطی وانا القاسم۔