روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تھے کہ ایک آدمی نے کہا اے ابو القاسم ۱؎ تو اس کی طرف نبی صلی اللہ علیہ سلم نے توجہ فرمائی وہ بولا کہ میں نے تو اس کو بلایا ہےتب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا نام تو رکھو میری کنیت نہ رکھو ۲؎ (مسلم،بخاری)
۱؎ کسی شخص کا نام ابوالقاسم تھا اس نے اسے پکارا۔
۲؎ مقصد یہ ہے کہ اگر ہزاروں کے نام محمد ہوں تو دھوکہ نہ ہوگا کیونکہ حضور کو صرف نام سے پکارنا حرام ہے،اب جو حضور کو پکارے گا وہ یارسول اللہ کہے گا یامحمد نہ کہے گا،اگر یامحمد کہہ کر پکارے گا تو کسی اور محمد کو پکارے گا نہ کہ حضورکو، اللہ تعالٰی نے ہمارے حضور کو نام لے کر نہ پکارا یا ایہاالنبی یا ایہا الرسول سے پکارا لہذا نام کے اشتراک میں شبہ و دھوکہ نہ ہوگا کنیت کے اشتراک میں ضرور دھوکا ہوگا۔(مرقات)لہذا حدیث واضح ہے۔پس حضور انور کو یا ابا القاسم کہہ کر پکار سکتے ہیں کہ یہ حضور کا لقب ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نبی اللہ مگر یامحمد کہہ کر نہیں پکارسکتے کہ محمد حضور کا نام شریف ہے،دیکھو مرقات حضور انور کے بڑے صاحبزادے کا نام قاسم تھا اس نام سے آپ کی کنیت ابوالقاسم ہوئی۔