Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
586 - 975
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر 586
روایت ہے حضرت قتادہ سے کہ حضرت ابن عمر سے پوچھا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ ہنستے تھے ۱؎ فرمایا ہاں حالانکہ ایمان ان کے دلوں میں پہاڑ سے بڑا تھا ۲؎ اور بلال ابن سعد نے کہا ۳؎ کہ میں نے صحابہ کو پایا کہ وہ نشانوں کے درمیان دوڑ لگاتے تھے اور ان کے بعض بعض سے ہنسی کرتے تھے جب رات ہوتی تو راہب(تارک الدنیا)بن جاتے تھے ۴؎(شرح سنہ)
شرح
۱؎  شاید سائل نے وہ حدیث سنی ہوگی کہ زیادہ ہنسنا دل مردہ کرتا ہے توا س نے سوچا ہوگا کہ حضرات صحابہ کبھی نہ ہنستے ہوں گے وہ حضرات زندہ دل تھے پھر انہیں ہنسی سے کیا تعلق،جسے آج لوگ کہتے کہ ولی وہ جس کے گھر بار بیوی بچے کچھ نہ ہو جنگل میں تارک الدنیا ہو کر رہے۔مشہور ہے کہ وہ فقیر کیسا جو پاس رکھے پیسہ۔

۲؎  جواب کا مقصد یہ ہے کہ ہنسنا حرام نہیں حلال ہے،وہ حضرات وہ ہنسی نہ ہنستے تھے جو دل مردہ کردے یعنی ہر وقت ہنستا رہنا بلکہ وہ ہنسی ہنستے تھے جو دل کو شگفتہ رکھے اور سامنے والے کو بھی شگفتہ بنادے،ان حضرات کے دل ایمان سے بھرے ہوئے تھے ساتھ ہی وہ حضرات شگفتہ دل بھی تھے انکے پاس بیٹھنے والے بھی خوش ہوجاتے تھے۔

۳؎  آپ تابعی ہیں،بہترین واعظ عابد شب زندہ دار،دمشق میں قیام رہا آپ کو دمشق کا حسن بصری کہا جاتا تھا،آپ کی ملاقات اپنے والد،تمیم داری امیر معاویہ جابر سے ہے رضی اللہ عنہم،     ۱۲۰؁  ایک سو بیس ہجری میں وفات ہوئی۔(اشعہ)

۴؎  یعنی وہ حضرات دن میں بھاگ دوڑ ہنسی مذاق سب کچھ کرتے تھے تیر اندازی ان کا بہترین مشغلہ تھا مگر جب رات ہوتی تو مصلی ہوتا اور یہ حضرات ہوتے۔اب دعوت،مناجات،عبادات میں مشغول ہوکر دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوجاتے تھے۔خیال رہے کہ شب بیداری یعنی نماز تہجد کی قرآن کریم میں بہت ہی تعریف آئی ہے رب تعالیٰ نصیب کرے،تو سمجھو کہ تمام نمازیں اطاعت کی ہیں یہ نماز محبت کی،تمام نمازیں مسلمانوں کے لیے آئیں مگر تہجد خاص حضور انور کے لیے،رب فرماتاہے:"وَ مِنَ الَّیۡلِ فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ"اب جو بھی تہجد پڑھتا ہے حضور کے صدقے پڑھتا ہے۔حضرات صحابہ ظاہرًا ہنستے تھے باطن کی آنکھ سے روتے تھے، اشباہ(صورتوں) میں فرشی تھے ارواح میں عرشی تھے، بدن سے مخلوق میں تھے دل میں خالق کے ساتھ،یہ ظاہر سب کے ساتھ بہ باطن رب کے پاس،فقراء کے لباس میں بادشاہ تھے ان میں سے ہر صحابی ایسا تھا۔شعر

شیر نردر پوشین برہ اے 		آفتابے    در   لباس    ذرہ 

بکرے کی کھال میں شیر ذرہ کے لباس میں سورج رضی اللہ عنہم۔
Flag Counter