روایت ہے حضرت نافع سے کہ ایک شخص نے حضرت ابن عمر کی برابر میں چھینک لی تو بولا اللہ کا شکر ہے اور رسول اللہ پر سلام ۱؎ تو جناب ابن عمر نے کہا کہ میں بھی کہتا اللہ کا شکر ہے اور رسول اللہ پر سلام ۲؎ مگر ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس طرح نہ سکھایا ہمیں یہ سکھایا کہ ہم کہیں اللہ کا شکر ہے ہر حال پر ۳؎(ترمذی)
شرح
۱؎ غالبًا وہ صاحب سمجھے کہ حضور انور کو سلام بھی ذکر خیر ہے اور الحمدﷲ بھی ذکر خیر اور خیر کو خیر سے ملانا زیادتی خیر کا ذریعہ ہے،دیکھو خطبہ مسجد میں داخلہ کے وقت حمد وصلوۃ و سلام ملے ہوتے ہیں مگر یہ قیاس درست نہ تھا۔(مرقات) ۲؎ یعنی میں نہ تو حمد الٰہی کا انکار کرتا ہوں نہ حضور کو سلام کرنے کا نہ ان دونوں کو جمع کرنے کا میں خود بارہا ان دونوں کو ملا کر کہا کرتا ہوں۔ ۳؎ یعنی چھینک کے موقعہ پر حمد الٰہی کو سلام رسول اللہ سے ملانا خلاف سنت ہے،ہم کو حضور نے اس موقعہ پر یہ سکھایا کہ حمد کے ساتھ علی کل حال ملائیں،نیز حمد کے ساتھ سلام کو ملانا اس سنت کے ترک کا باعث ہے لہذا بدعت ہے اور ممنو ع۔بعض علماء نے چھینک کے وقت درود شریف کو سنت فرمایا ہے،دیکھو اشعۃ اللمعات۔ مگر وہ حضرات علی کل حال کے بعد درود شریف کو مستحب کہتے ہیں۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کسی نے چھینک کر کہا تھا السلام علیکم تو حضور انور نے اس پر کچھ سختی فرمائی تھی مگر حضرت ابن عمر نے اس شخص پر نہایت نرمی کی،وجہ یہ ہے کہ اس شخص نے الحمدﷲ بالکل نہ کہا تھا صرف سلام کیا تھا لہذا اس پر سختی کی۔یہاں اس شخص نے حمد کے بعد سلام کہا یعنی حمد کو چھوڑا نہیں لہذا نرمی فرمائی یا شاید اس شخص نے بارہا یہ قصور کیا ہوگا اس لیے اس پر سختی کی یہاں اس شخص نے پہلی بار یہ قصور کیا ہے،مرقات میں اس دوسری توجیہ کا ذکر کیا۔