Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
582 - 975
باب الضحك

ہنسنے کا باب  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  ضحك ض کے کسرہ ح کے سکون سے یا دونوں کے کسرہ سے یا ض کے فتحہ سے ح کے سکون سے ہے بمعنی ہنسنا یہاں ضحك سے مراد ہنسنا تبسم کرنا سب مراد ہے اس لیے مصنف اس باب میں تبسم کا ذکر بھی کریں گے۔فقہاء کے ہاں صرف دانت کھل جانا آواز نہ پیدا ہونا تبسم ہے،تھوڑی آواز بھی پیدا ہونا جو خود سنی جائے دوسرا نہ سنے ضحك ہے،زیادہ آواز پیدا ہو کہ دوسرا بھی سنے اور منہ کھل جائے قہقہہ ہے یعنی ٹھٹھا۔نماز  میں تبسم کرنے سے نہ نماز جائے نہ وضو،ہنسنے سے نماز جاتی رہے گی،ٹھٹھہ سے نماز وضو دونوں جاتے رہتے ہیں۔
حدیث نمبر 582
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو پورا ہنستے نہ دیکھا حتی کہ میں آپ کے انتہائی تالو دیکھ لیتی ۱؎ آپ مسکرایا کرتے تھے ۲؎(بخاری)
شرح
۱؎ یہ تفسیر ہے مستجمعا کی یعنی اس طرح ہنستے نہ دیکھا کہ آپ کا منہ شریف کھل جاتا اور  میں آپ کے تالو کا آخری حصہ دیکھ لیتی۔لہوات جمع ہے لہات کی، لہات وہ پارۂ گوشت جو تالو کی انتہا اور حلق سے متصل ہے حضور انور اس طرح ساری عمر کبھی نہ ہنسے۔

۲؎  حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ہنستے کبھی نہ تھے مسکراتے بہت تھے،ہنسنا قلب میں غفلت پیدا کرتا ہے تبسم خوش اخلاقی ہے اس سے سامنے والے کو خوشی ہوتی ہے۔شعر

جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں 	اُس   تبسم   کی  عادت   پہ   لاکھوں   سلام
Flag Counter