۱؎ اور زکام ایک بیماری ہے بیماری کی چھینک کا جواب سنت نہیں۔خیال رہے کہ سنت نہ ہونا اور ہے خلاف سنت ہونا کچھ اور خلاف سنت چیز بدعت ہوتی ہے جس کا کرنا ممنوع ہوتا ہے اور سنت نہ ہونا ممنوع ہونے کی دلیل نہیں،بخاری شریف پڑھنا سنت نہیں مگر خلاف سنت نہیں اس لیے ممنوع نہیں،خلاف سنت وہ ہے جو سنت کو مٹادے اس کا فرق کتاب راہِ جنت میں ملاحظہ فرماؤ آج لوگوں نے ان دونوں میں فرق نہیں کیا۔
۲؎ قال کا فاعل ابوداؤد نہیں بلکہ وہ راوی ہیں جنہوں نے حضرت ابوہریرہ سے یہ روایت کی یعنی سعید مقبری۔ مطلب یہ ہے کہ سعید مقبری کہتے ہیں کہ مجھے خیال پڑتا ہے کہ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ کا قول نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے۔(لمعات)اگر مرفوع نہ بھی ہو تب بھی مرفوع کے حکم میں ہوگی کہ صحابی کا وہ قول جو قیاس سے وراء ہو مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے۔(اشعہ)جیساکہ کتب اصول فقہ میں مذکور ہے۔