۱؎ آپ سلمان فارسی ہیں،آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے۔
۲؎ یعنی مسلمان ہونے سے پہلے میں نے توریت میں پڑھا تھا۔
۳؎ یہاں وضو لغوی معنی میں ہے جو بنا ہے وضؤ سے بمعنی صفائی اور اچھائی لہذا اس کے معنی ہیں ہاتھ و منہ کی صفائی کرنا کہ ہاتھ دھونا کلی کرلینا ۔
۴؎ یا تو توریت شریف کے اس فرمان کی تصدیق و تائید کے لیے یا یہ پوچھنے کے لیے کہ اب اسلام میں بھی یہ حکم ہے یا دیگر احکام کی طرح منسوخ ہوگیا۔
۵؎ یعنی توریت شریف میں دوبار ہاتھ دھونے کلی کرنے کا حکم تھا کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد مگر یہود نے صرف بعد رکھا پہلے کا ذکر مٹا دیا۔ کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کلی کرنے کی ترغیب اس لیے ہے کہ عمومًا کام کاج کی وجہ سے ہاتھ میلے دانت میلے ہوجاتے ہیں اور کھانے میں ہاتھ و منہ چکنے ہوجاتے ہیں لہذا دونوں وقت یہ صفائی کرلو کھانا کھا کر کلی کرلینے والا شخص ان شاءاللہ پائیوریا سے محفوظ رہتا ہے،وضو میں مسواک کرنے کا عادی دانتوں اور معدے کے امراض سے بچا رہتاہے،کھانے کھانے کے فورًا بعد پیشاب کرلینے کی عادت ڈالو اس سے گردہ و مثانہ کے امراض سے حفاظت ہے بہت مجرب ہے۔