| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ہلال ابن یساف سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم سالم ابن عبید کے پاس تھے ۲؎ تو قوم میں سے کسی شخص نے چھینکا تو بولا السلام علیکم ۳؎ تو اس سے سالم نے کہا تجھ پر اور تیری ماں پر۴؎ تو شاید وہ شخص اپنے دل میں غصہ ہوا ۵؎ تو فرمایا میں نے وہ ہی کہا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جب ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس چھینک لی تھی تو بولا السلام علیکم تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تجھ پر اور تیری ماں پر ۶؎ جب تم میں سے کوئی چھینکے تو کہے الحمد للہ رب العلمین اور اس کو جواب دینے والا کہے یرحمك اللہ اور یہ کہے یغفر اللہ لی ولکم ۷؎ (ترمذی،ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ تابعی ہیں،حضرت اشجع کے آزادکردہ غلام ہیں،حضرت علی اور حضرت ابو مسعود انصاری مسلم ابن قیس سے ملاقات ہے،۱۷۷ھ ایک سو ستتر میں وفات پائی آپ سے بہت لوگوں نے روایات لیں۔(مرقات و اشعہ) ۲؎ یا تو منہ سے نکل گیا یا بجائے الحمدﷲ کے السلام علیکم عمدًا کہا یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ بھی اللہ کا ذکر ہی ہے یا مسئلہ معلوم نہ تھا۔ ۳؎ یہ سلام تحیت کا نہیں ہے بلکہ اظہار ناراضی و بیزاری کا ہے جیسے ابراہیم علیہ السلام نے اپنے چچا آزر کے جواب میں فرمایا"قَالَ سَلٰمٌ عَلَیۡکَ"یعنی تجھے دور ہی سے سلام ہے اس سلام یعنی ناراضگی میں ماں کو اس لیے داخل فرمایا کہ ماں نے بچے کو دین نہ سکھایا یہ باتیں مائیں سکھاتی ہیں اس نے غفلت برتی یا بچے ایسی بدعتیں اکثر ماؤں سے سیکھتے ہیں۔ہمارے ہاں لوگ چاند دیکھ کر سلام کرتے ہیں اماں سلام،ابا سلام یہ بھی بوڑھی عورتوں کی رسم ہے،چونکہ ان رسوم بے موقعہ سلام کی موجد عورتیں ہوتی ہیں خصوصًا مائیں دادیاں اس لیے علی امك فرمایا۔اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ بے موقعہ سلام کرنے والے کو جواب نہ دیا جاوے،دیکھو حضور انور نے وعلیکم السلام نہ فرمایا،نیز چونکہ اس نے چھینک کر الحمدﷲ نہ کہا لہذا اسے جواب بھی نہ دیا گیا اس حدیث سے بہت مسائل مستنبط ہوسکتے ہیں۔ ۵؎ یعنی اس نے منہ سے تو کچھ نہ کہا مگر اس کے چپ ہوجانے سے محسوس ہوا کہ اس کے دل کو اس جواب سے رنج ہوا۔ ۶؎ سبحان اللہ! کیا حکیمانہ طریقہ اختیار فرمایا کہ اس کا رنج دور کرنے کو حدیث پیش فرمائی اور فرمایا کہ اس سارے ہی واقعہ میں میں متبع ہوں متبدع نہیں ہوں۔(مرقات) ۷؎ مقصد یہ ہے کہ یہ موقع سلام کا نہ تھا بلکہ حمد الٰہی کا تھا اگر تم حسب موقعہ الحمد کہتے تو جواب پاتے ہر مقام کے لیے ذکر اللہ علیحدہ ہے۔خوشی کی خبر پر انا ﷲ نہ پڑھو غم کی خبر پر الحمدﷲ نہ کہو۔