۱؎ یعنی دیدہ و دانستہ چھینک لیا کرتے تھے ناک میں تنکے ڈال کر یا کسی اور طریقہ سے جیساکہ یتعاطسون بتارہا ہے۔
۲؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ یہود بھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو مقبول الدعاء اللہ کا محبوب جانتے تھے اس لیے آپ کی دعا لینے کی کوشش کرتے تھے مگر ایمان نہ لاتے تھے حضور سے دعا لینے کی ترکیب ایمان لانا اور نیک اعمال کرنا ہے خصوصًا نماز تہجد کی پابندی کرنا۔دوسرے یہ کہ کفار کے لیے دعاء مغفرت دعاء رحمت کرنا ممنوع ہے انہیں دعاء سے ہدایت کرے،رحمت مغفرت صرف مسلمانوں کے لیے ہے ہدایت کفار کو بھی مل سکتی ہے کہ وہ ہدایت پاکر ایمان قبول کرلیں۔