۱؎ عمل جو کوئی چھینک پر کہے الحمدﷲ علی کل حال اور اپنی زبان سارے دانتوں پر پھیر لیا کرے تو ان شاءاللہ دانتوں کی بیماریوں سے محفوظ رہے گا مجرب ہے۔حضرت علی فرماتے ہیں کہ جو کوئی چھینک پر کہے الحمدﷲ رب العالمین علی کل حال تو ان شاءاللہ اسے کبھی ڈاڑھ اور کان کا درد نہ ہوگا۔امام عسقلانی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔(ابن ابی شیبہ،مرقات)حق یہ ہے کہ تمام سننے والوں پٖر جواب دینا سنت ہے یعنی جواب چھینک سنت علی العین ہے۔
۲؎ کہ بال کے معنی دل،خیال،حال ہیں۔یہاں بمعنی حال ہے جب حال ہی ٹھیک ہوگیا تو دل و خیال بھی ٹھیک ہوجائیں گے اس لیے یہاں بال سے حال مراد لے تاکہ دعا جامع ہوجاوے۔