| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب کھاتے یا پیتے تو کہتے شکر ہے اس اللہ کا جس نے کھلایا پلایا اور اسے بہ آسانی اتارا ۱؎ اور اس کے نکلنے کا راستہ بنایا ۲؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ اس طرح کہ کھانا چبانے کو منہ میں دانت دیئے،کھانا تر کرنے کو منہ میں لعاب دیا،اسے گھمانے کے لیے منہ میں زبان بخشی،پھر اسے پیٹ میں پہنچانے کے لیے حلق کی فراخ نالی عطا فرمائی۔خیال رہے کہ تسویغ کھانے اور پانی کے لیے بولا جاتا ہے۔ ۲؎ کہ ایک منہ سے کھانے پینے کی چیزیں اندر جاتی ہیں مگر دو راستوں سے نکلتی ہیں،کھانا اورراستہ سے پانی دوسرے راستہ سے،پھر معدہ کھانے کا خزانہ بنایا اور مثانہ پانی کا خزانہ بنایا پھر ان دونوں کے بعض اجزاء پر رونگٹے سے پسینہ بنا کر نکالا۔