| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابوسعید انصاری سے ۱؎ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا آپ مسجد سے نکل رہے تھے تو راستہ میں مرد عورتوں کے ساتھ خلط ملط ہوگئے ۲؎ تو عورتوں سے فرمایا تم پیچھے رہو تمہیں یہ حق نہیں کیونکہ تمہارے لیے بیچ راستہ میں چلنا مناسب نہیں۳؎ تم راستہ کے کنارے اختیار کرو پھرعورت دیواروں سے مل کر چلتی تھی حتی کہ اس کا کپڑا دیوار سے اولجھتا تھا۴؎(ابوداؤد،بیہقی شعب الایمان)
شرح
۱؎ آپ کا نام مالک ابن ربیعہ ہے،انصاری ہیں،صحابی ہیں،اصحابِ بدر میں سب سے آخر میں آپ کی وفات ہوئی۔ ۲؎ جماعت نماز یا جلسہ وعظ ختم ہونے پر حاضرین مسجد سے نکلے مجمع بہت تھا بھیڑ میں عورتیں مرد مخلوط ہوگئے تب حضور انور نے یہ فرمایا،اب بھی حج کے موسم میں جب نمازی مسجد نبوی سے نکلتے ہیں تو راستے بند ہوجاتے ہیں۔ ۲؎ تحققن بنا ہے حاق سے بمعنی درمیان اور وسط،تحققن بروزن تنصرن ہے نصر ینصر سے مضارع جمع مخاطب یعنی تم بیچ سڑک پر نہ چلا کرو وہ مردوں کے لیے چھوڑ دیا کرو بیچ راہ میں چلیں،راستہ کے کناروں پر تم چلا کرو تاکہ مردوں سے مخلوط نہ ہوجایا کرو۔ ۴؎ یہ ہے حضرات صحابہ کرام کی اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کہ اس فرمان عالی کے بعد کوئی مسلمہ بی بی وسط راہ میں چلی ہی نہیں بلکہ اگر راستہ خالی ہوتا جب بھی وہ کنارے پر ہی چلتی تھی،اب بھی عورتوں کو اگر ضرورۃً راہ چلنا پڑ جاوے تو کنارہ پر ہی چلیں یہ ہی حکم سرکاری ہے۔