۱؎ یعنی معمر نے جو تابعی ہیں یہ حدیث حضرت ابوہریرہ سے موقوفًا روایت کی یہ کلام خود حضرت ابوہریرہ کا بیان فرمایا مگر ایسی موقوف حدیث جس میں قیاس کو دخل نہ ہو وہ مرفوع کے حکم میں ہے خصوصًا جب کہ دوسری اسناد سے مرفوع حدیث بھی آرہی ہو۔خیال رہے کہ ایسی بیٹھک کو شیطان کی بیٹھک فرمانے کے دو معنی ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ شیطان اس طرح بیٹھا کرتا ہے۔دوسرے یہ کہ وہ ملعون اس بیٹھک سے خوش ہوتا ہے۔حدیث شریف میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں بلکہ ظاہری معنی پر ایمان لانا چاہیے واقعی شیطان ایسے ہی بیٹھتا ہے حضور کی نظر ان چیزوں کو دیکھ لیتی ہے جو ہمارے خیالات سے بھی وراء ہیں۔(مرقات)