۱؎ یعنی مسجد نبوی شریف میں حضرات صحابہ متفرق بیٹھے تھے دو چار اس طرف اور چار چھ اس دوسری طرف۔
۲؎ یہ فرمان عالی اظہار ناراضی کے لیے ہے۔عزین بنا ہے عزۃ سے بمعنی علیحدگی اور متفرق ہونا،رب تعالیٰ فرماتاہے:"عَنِ الْیَمِیۡنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیۡنَ"۔مقصد یہ ہے کہ مسجد یا مجلس میں مسلمان اکٹھے بیٹھا کریں الگ الگ ٹولیاں بنا کر نہ بیٹھیں کہ اس میں کفار سے مشابہت ہے،نیز قالب کا اثر قلب پر پڑتا ہے اگر مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے الگ تھلگ بیٹھیں گے تو ان کے دل بھی الگ ہوجائیں گے اگر مل کر بیٹھیں گے تو دل بھی مل جائیں گے۔خیال رہے کہ نماز کی انتظار میں مسجد میں مسلمان صف بستہ بیٹھیں کہ فرشتے بارگاہِ الٰہی میں صف بستہ ہی حاضر ہوتے ہیں اور ذکر کی مجلس میں حلقہ باندھ کر بیٹھے کہ جنت میں مسلمان حلقوں سے بیٹھا کریں گے،رب فرماتا ہے:"عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ "حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ہر فرمان میں ہزار ہا حکمتیں ہوتی ہیں۔