۱؎ شکر کا اقل درجہ یہ ہے کہ بسم اللہ سے شروع کرے الحمدﷲ سے ختم کرے،عملی شکر یہ ہے کہ کھا پی کر رب تعالیٰ کی اطاعت کرے،اللہ توفیق دے۔
۲؎ روزہ دار کا کم سے کم صبر یہ ہے کہ اپنے روزہ کو روزہ توڑنے والی چیزوں سے محفوظ رکھے اور درمیانی شکر یہ ہے کہ مکروہات سے بچائے،اعلیٰ شکریہ ہے کہ ان چیزوں سے روزہ کو محفوظ رکھےجن سے روزہ غیر مقبول ہوتا ہےیعنی سر سے پاؤں تک ہر عضو کا روزہ ہو۔اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کے دو رکن ہیں: شکر اور صبر تو گویا نصف ایمان شکر ہے نصف ایمان صبر،نصف ہونے میں تشبیہ ہے ورنہ روزہ کا خصوصی درجہ وہ ہے جوکسی عبادت کو حاصل نہیں،فرماتا"الصوم لی وانا اجزی بہ روزہ میرا ہے اور اس کا ثواب میں ہی دوں گا یا اس کا ثواب خود میں ہوں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ صابر روزہ دار تو کھانا پینا چھوڑ کر صبرکرتا ہے اور شاکر کھانے والا اس کھانے سے پیدا شدہ قوتوں کو ناجائز جگہ خرچ کرنے سے روک کر صبر کرتا ہے تو شاکر بھی بالواسطہ صابر ہی ہے۔بہرحال شکر کو صبر سے بہت مناسبت ہے۔
۳؎ سنان سین کے کسرہ اور نون کے فتحہ سے ہے،سنہ کے فتحہ اور نون کے شد سے۔بعض محدثین نے فرمایا کہ سنان اور سنہ دونوں باپ بیٹے صحابی ہیں،بعض نے فرمایا کہ سنان تابعی ہیں اور سنہ صحابی ہیں،سنہ اسلمی ہیں ۳۲ بتیس ہجری میں خلافت عثمانیہ میں ان کی وفات ہوئی،ان کے حالات معلوم نہ ہوسکے۔(اشعہ)