Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
556 - 975
حدیث نمبر 556
روایت ہے یعیش ابن طخفہ ابن قیس غفاری سے ۱؎ وہ اپنے والد سے راوی اور وہ صفہ والوں میں سے تھے ۲؎ فرماتے ہیں اس حالت میں کہ میں درد کی وجہ سے اپنے پیٹ پر لیٹا ہوا تھا۳؎ ناگاہ کوئی صاحب مجھے اپنے پاؤں سے ہلانے لگے۴؎ پھر فرمایا کہ اس لیٹنے سے اللہ ناراض ہے ۵؎  میں نے دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہیں ۶؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)
شرح
۱؎  یعیش بروزن یزید تابعی ہیں،ان کے والد طخفہ ط،خ،ف،ہ یا طہقہ صحابی ہیں،ان کے والد قیس ابن ابی غزرہ غفاری کوفی ہیں۔

۲؎ یعنی طخفہ صحابی ہیں اور صفہ والوں میں سے ہیں وہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں۔

۳؎  سحر سین کے پیش ح کے سکون سے یا سین کے اور ح دونوں کے فتحہ سے حلق اور سینہ کا درمیانی حصہ یعنی سینہ کے اوپری حصہ میں میرے درد تھا اس لیے میں پیٹ کے بل اوندھا لیٹا ہوا تھا کہ سینہ دبا رہے اور درد کو سکون ہو۔

۴؎  بڑا خوش نصیب ہے وہ جسم جسے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی ٹھوکر لگ جاوے ہم نے عرض کیا ہے۔شعر

مرمٹ کے خوب لگتی مٹی مری ٹھکانے		گر انکی ٹھوکروں میں میرا مزار ہوتا

جس غلطی کی بنا پر حضور کی ٹھوکر نصیب ہوجاوے وہ غلطی بھی اللہ کی رحمت ہے۔

۵؎  چونکہ دوسری طرح لیٹنے سے بھی یہ تکلیف دفع ہوسکتی تھی اس لیے یہ درد اس کے لیے عذر نہ مانا گیا اور اس سے منع فرمادیا گیا لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ ضرورت کے وقت ممنوعات بھی درست ہوجاتے ہیں۔

۶؎  سبحان اللہ! آپ نے یہ عذر حضور سے عرض نہ کیا بلکہ فورًا کروٹ بدل لی یا اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔
Flag Counter