۱؎ یعنی اوندھے لیٹنے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا بلکہ اس سے ناراض ہے کہ اس طرح سونے سے غفلت پیدا ہوتی ہے،اس سونے میں سینہ اور چہرہ جو اشرف اعضاء ہیں زمین پر رگڑتا ہے سر تو سجدہ ہی میں زمین پر رکھا جاوے نہ کسی اور کے سامنے نہ سوتے ہیں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ سونا چار قسم کا ہے: پشت پر سونا یعنی چت یہ سونا اہل عبرت کا ہے،داہنی کروٹ پر سونا یہ اہل عبادت کا سونا ہے،بائیں کروٹ پر سونا یہ اہل استراحت کا سونا ہے،پیٹ کے بل سونا یہ سونا اہل غفلت کا ہے۔(اشعہ)مرقات نے فرمایا کہ اوندھے سونا دوزخیوں کا ہوگا اور لوطی لوگ ایسے سوتے ہیں۔