۱؎ مرقات نے فرمایا کہ آل ام سلمہ سے مراد حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی کوئی خاص خادمہ ہیں،آل خادم کو بھی کہا جاتا ہے،رب فرماتا ہے:"وَ اِذْ اَنۡجَیۡنٰکُمۡ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوۡنَ"۔اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ اس سے حضرت ام سلمہ کی بعض اولاد مراد ہے جو ابو سلمہ سے تھی جن میں سے بعض حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی پرورش میں تھی جیسے عمرہ،زینب۔واللہ اعلم!
۲؎ یعنی اب جو رخ حضور کی قبر انور کا ہے کہ قبلہ کے داہنے سرہانے اور بائیں طرف پائنتی وہ ہی رخ حضور کے بستر شریف کا ہوتا تھا بلکہ اس بستر کی جگہ قبر انور ہے اور جس کمبل شریف پر آپ سوتے تھے وہ ہی کمبل شریف قبر انور میں بچھادیا گیا۔