۱؎ حسناء ح اور سین کے فتح سے ہے بمعنی خوب اچھی طرح صاف و روشن یعنی حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم فجر کی نماز پڑھا کر مصلے شریف پر ہی چہار زانو بیٹھے رہتے جب آفتاب طلوع ہوکر بلند ہوجاتا تب اشراق وہاں ہی پڑھ کر اٹھتے سنت بھی یہ ہی ہے۔خیال رہے کہ آفتاب چمکنے کے بیس منٹ بعد نماز جائز ہوتی ہے اسی وقت سے نماز اشراق کا وقت شروع ہوتا ہے چہارم دن تک رہتا ہے،پھر چہارم دن سے وقت چاشت شروع ہوتا ہے جو نصف النہار تک رہتا ہے،نصف النہار پر نماز بلکہ سجدہ حرام ہوجاتا ہے،پھر زوال یعنی سورج ڈھلنے پر ظہر کا وقت ہوتا ہے،بعض نوافل کے لیے وقت مقرر ہیں ان میں سے نوافل اشراق بھی ہیں۔