Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
551 - 975
حدیث نمبر 551
روایت ہے حضرت قیلہ بنت مخرمہ سے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو مسجد میں دیکھا کہ آپ قرفصاء کی نشست بیٹھے تھے ۱؎  فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو عجزونیاز کرتے دیکھا تو میں خوف سے کانپ گئی ۲؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ قرفصاء ایک خاص بیٹھک کا نام ہے۔اس کی صورت یہ ہے کہ اپنی پنڈلیاں زمین سے لگائے اور دونوں ران پنڈلیوں سے پیٹ رانوں سے ملا ہوا ہو اور دونوں ہاتھ پنڈلیوں پر ہوں یہ بیٹھک انتہائی عاجزی اور تواضع کی ہے،قرفصاء کی اور صورتیں بھی بیان کی گئیں ہیں۔(مرقات و اشعہ)اشعہ نے فرمایا کہ یہ بیٹھک عرب کے چرواہوں اور غریب لوگوں کی ہے یا ان لوگوں کی جو کسی خاص اہم کام میں غوروفکر کر رہے ہوں بہرحال اس بیٹھک میں عجزوانکسار یا فکر کا اظہار ہے۔

۲؎  کیونکہ میں نے یہ خیال کیا کہ جب سید المرسلین امام الاولین والاخرین کی یہ  نشست ہے اور آپ کے انکسار کا یہ حال ہے تو ہم لوگ کس شمار میں ہیں یہ خیال کرکے مجھ پرلرزہ طاری ہوگیا۔

پیش اوگیتی جبین فرسودہ است 		 خویشتن راعبدہ فرمودہ است

بوریا   ممنوں   خواب  راحتش		 تاج  کسریٰ  زیر پائے  امتش

اپنی تواضع کا یہ حال ہے اور دنیا ان کے آستانہ کی خاک چاٹ رہی ہے ان کی چوکھٹ پر پیشانی رگڑ رہی ہے۔
Flag Counter