۱؎ خواہ اکیلے یا جماعت کے ساتھ پھر خواہ اپنے گھر والوں کے ساتھ خواہ مہمانوں کے ساتھ پھر خواہ اپنے گھر یا کسی اور کے گھر مہمان بن کر ہر کھانے کے بعد یہ دعا پڑھتے۔
۲؎ کھانے پانی سے جسم کی پرورش ہے، اسلام وایمان سے جان و دل کی پرورش،ان دونوں نعمتوں پر شکر کرتے تھے کیونکہ شکر سے نعمت بڑھتی ہے،قرآن مجید کا وعدہ ہے، فقط پانی پی کر یہ دعا نہ پڑھتے تھے وہاں صرف الحمد ﷲ کہتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر نئی نعمت پا کر نیا شکر کرے چونکہ کھانا اصل مقصود ہے اور پانی اس کے تابع اس لیے نعمت ظاہری کا ذکر پہلے فرماتے تھے باطنی کا بعد میں،نیز دعا کو اسلام کے ذکر پر ختم فرمانا اس لیے تھا کہ خاتمہ ایمان پر میسر ہو۔(مرقات)
۳؎ یہ حدیث احمد اور نسائی نے بھی روایت کی،ابن سنی نے اپنی کتاب الیوم و اللیلۃ میں نقل فرمائی۔ غرضیکہ بہت محدثین نے نقل فرمائی۔