روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنی بائیں طرف تکیے پر ٹیک لگائے دیکھا ۱؎(ترمذی)
شرح
۱؎ معلوم ہوا کہ گاؤ تکیہ پر بائیں ہاتھ کی ٹیک لگاکر بیٹھنا سنت ہے بلکہ اگر سادہ تکیہ پر ٹیک لگائی جاوے تو وہ بھی اس میں داخل ہے۔اس حدیث کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ حضور انور تکیہ پر سر مبارک رکھے بائیں کروٹ پر لیٹے تھے۔(مرقات و اشعہ)حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو تکیہ بہت پسند تھا فرماتے ہیں کہ اگر کوئی تم کو تکیہ دے تو اسے رد نہ کرو۔(اشعہ)