Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
548 - 975
حدیث نمبر 548
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ایک شخص دو چادروں میں اکڑ کر چل رہاتھا ۱؎  اسے اپنا نفس بڑا پسند آیا تھا اسے زمین میں دھنسا دیا گیا تو وہ اس میں قیامت تک دھنستا چلا جارہا ہے ۲؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ شاید یہ شخص قارون تھا یا کوئی ملک فارس کا کافر،بعض نے فرمایا کہ یہ واقعہ قریب قیامت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ایک امتی سے ہوگا اس صورت میں یتبختر بمعنی مستقبل ہوگا اور اعجبت خسف تمام افعال بمعنی مستقبل ہوں گے۔واللہ اعلم! اس سے معلوم ہوا کہ تکبروغرور کی چال چلنا بھی ممنوع بلکہ باعث عذاب ہے،مسلمان کی چال میں بھی تواضع چاہیے،رب تعالیٰ اپنے مقبول بندوں کی صفت یوں فرماتاہے: "الَّذِیۡنَ یَمْشُوۡنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا"ہمارے بندے وہ ہیں جو تواضع سے چلتے ہیں۔آج کل بعض لوگ چشمہ لگائے ننگے سر ہاتھ میں بیت گھماتے چلتے ہیں یہ متکبرانہ چال ہے اس سے بچو۔

۲؎  یتجلجل بنا ہے جلجلۃ سے اس کے معنی ہیں وہ حرکت جس کی آوازہو۔مقصد یہ ہے کہ تکبر کا انجام ذلت و خواری ہے عجز کا انجام سرداری ہے۔شعر

عجز کار انبیاء و اولیاء است		عاجزی محبوب درگاہ خدا است 		

خاک میں عجز ہے آگ میں تکبر،تو باغ خاک میں ہی لگتے ہیں نہ کہ آگ میں۔
Flag Counter